توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی گرفتار

لاہور: توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر لیا گیا۔
توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد پولیس کی نفری لاہور میں سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ زمان پارک پہنچی، پولیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔
دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ابتدائی طور پر کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جا سکتا ہے اس کے بعد انہیں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

ادھر لاہور میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی رہائشگاہ کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

اڈیالہ جیل میں انتظامات مکمل

چیئرمین پی ٹی آئی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد ان کے لیے اڈیالہ جیل میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں قید کیا جائے گا انہیں اڈیالہ جیل کے لاک اپ میں ہائی سکیورٹی زون میں رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ ضلع اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں ہے، تمام قیدی اڈیالہ جیل ہی میں رکھے جاتے ہیں اس سلسلے میں راولپنڈی سینٹرل جیل اڈیالہ انتظامیہ نے تمام انتظامات کو ختمی شکل دے دی ہے۔

جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالتی فیصلے کے مطابق سہولیات میسر ہوں گی, اسلام آباد پولیس چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل منتقل کرے گی۔

عدالت کا فیصلہ

قبل ازیں جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی پر الزامات ثابت ہوتے ہیں، ان پر جھوٹے اثاثے ظاہر کرنے کا الزام ثابت ہوا، قابل سماعت ہونے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کو 3 سال قید کی سزا سنائی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، اگر ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں