سلامتی کونسل کی سوڈان میں امدادکی لوٹ مار اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت

نیویارک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان میں انسانی امداد کی لوٹ مار اور عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں برطانیہ کے مشن کی طرف سے پیش کردہ ایک بیان میں سلامتی کونسل نےسوڈان میں دشمنی کے خاتمے، ایک مستقل جنگ بندی کے معاہدے اور سوڈان میں جمہوریت کی طرف جانے والے سیاسی عمل کے آغاز پر زور دیا۔
کونسل کے رکن ممالک نے سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سوڈانیوں کی قیادت میں سیاسی عمل میں اس کی مسلسل شمولیت پر زور دیا۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں سوڈان میں تنازع کے پڑوسی ممالک پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں “تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اراکین سے انسانی ضروریات پر فوری ردعمل کا مطالبہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امن معاہدہ میں شامل تمام فریقین اس پر عمل درآمد کے پر پابند ہیں، اسے مکمل طور پر لاگو کیا جانا چاہیے، خاص طور پر دارفر میں مستقل جنگ بندی کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن کی توسیع
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ روز سوڈان میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
ایک مختصر فیصلے میں سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر “سوڈان میں اقوام متحدہ کے مربوط عبوری سپورٹ مشن” کے مینڈیٹ میں 3 دسمبر 2023 تک توسیع کرنے پر اتفاق کیا ، گزشتہ ہفتے جنرل البرہان نے پیریتھس پر سوڈانی فوج اور محمد حمدان دقلو کی سربراہی میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان خونریز تصادم کو ہوا دینے کا الزام لگایا تھا۔
سوڈان میں شدید لڑائی جاری
سوڈان میں شدید لڑائی جاری ہے اور اقوام متحدہ کے امدادی سامان کی لوٹ مارکاانکشاف ہوا ہے ، سعودی عرب میں جنگجوؤں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، جنگجو امدادی سامان کے ٹرکوں اور گوداموں کو لوٹ رہے ہیں
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان میں لاقانونیت عروج پر ہے ، 40 فیصد عوام خوراک سے محروم ہیں اور متحارب افواج کے درمیان لڑائی میں 7امدادی کارکن مارے جاچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس سال امداد کی ضروریات کے لیے 2.6 بلین ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ 19 ملین افراد کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں