سویلین کا فوجی ٹرائل: 9 رکنی بنچ ٹوٹنے کا بعد نیا بنچ تشکیل، سماعت جاری

اسلام آباد: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والے 9 رکنی بنچ ٹوٹنے کے بعد نیا بنچ تشکیل دے دیا گیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کے لیے 7 رکنی بنچ تشکیل دے دیا، اعتراض کرنے والے دونوں جج سات رکنی ججز بنچ میں شامل نہیں ہیں۔
سماعت کا آغاز
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی جانب سے نیا تشکیل دیا گیا 7 رکنی بنچ اب کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کو اس بنچ پر اعتراض ہے تو پہلے بتا دے، درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی کو بھی اس بنچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں، بعدازاں پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، چھٹیوں کی وجہ سے ججز مختلف رجسٹریوں میں بیٹھیں گے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میرے کیس میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض عائد کیا گیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست میں ملٹری کورٹس کے سوا بھی بہت سی استدعائیں ایک ساتھ کی گئی ہیں، کوشش کریں کہ ملٹری کورٹس کے سوا دیگر استدعا کو واپس لے لیں، اس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ملٹری کورٹس بنانے کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہم مقدمات میں ملٹری کورٹس کے معاملے پر فوکس کر رہے ہیں، ہم آپس میں مشاورت کر کے بتائیں گے کہ آپ کو الگ سننا ہے یا اسی کیس میں سنیں گے۔

دوران سماعت لطیف کھوسہ نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹی فکیشن واپس ہو گیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ درست ہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ 15 مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9 مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، فارمیشن کانفرنس کا بیان بھی موجود ہے۔

چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ پریس ریلیز میں یہ کہا گیا کہ ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اس لیے ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو گا؟ جس پر لطیف کھوسہ نے اثبات میں سرہلایا اور کہا کہ جی پریس ریلیز میں یہ ہی کہا گیا ہے بعدازاں انہوں ںے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی۔

لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل یا تو کوئی کرنل کرے گا یا بریگیڈیئر، جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں آئی ایس پی آر کا نام کہاں لکھا ہے؟

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ آئی ایس پی آر کا ہی جاری اعلامیہ ہے، کابینہ نے آئی ایس پی آر کے اعلامیے کی توثیق کی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیانات سے نکل کر اصل قانون کیا ہے وہ بھی بتا دیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت سے درخواست کر کے سویلینز کے کیسز فوجی عدالتوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا، جس نے بھی تنصیبات پر حملہ کیا ان سے میری کوئی ہمدردی نہیں ہے، جس نے جو جرم کیا ہے اس کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو تمام مقدمات بنائے گئے انہیں سننے کا اختیار تو انسداد دہشت گردی عدالت کو پہلے ہی حاصل ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا یہی مؤقف ہے کہ کیسز انسداد دہشت گردی عدالت میں چلیں فوجی عدالتوں میں نہیں، 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں 9، 10 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ صرف حقائق میں رہیں، جو مقدمات درج ہوئے ان میں متعدد نام ہیں، مقدمات میں کچھ پولیس اہلکاروں کے نام کیوں شامل کیے گئے؟

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والا بینچ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد اٹھ کر چلا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں