ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ اور جلد تشخیص کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے: صدرمملکت

اسلام آباد: صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی سب سے بڑی آبادی کے تناظرمیں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ اور جلد تشخیص کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے، بروقت کارروائی نہ کرنے کی صورت میں پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے ۔ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر صدرمملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ہم ہیپاٹائٹس اورمتعلقہ بیماریوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منا رہے ہیں، ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرس سے صحت عامہ کو بڑے خطرات لاحق ہیں، ہیپاٹائیٹس سے دنیا بھر میں بے پناہ بیماریاں اور اموات واقع ہوتی ہیں۔صدر مملکت نے کہاکہ مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں، ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کا 80 فیصد بوجھ مصر اور پاکستان پرہے اور افسوسناک امر ہے کہ ابھی بھی ہمارا ملک اپنے خطے میں اس بوجھ کا ایک بڑا حصہ دار ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہیپاٹائٹس سی ایک خطرناک اور خاموش بیماری ہے، اکثر ہیپاٹائیٹس کی علامات اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک کہ اس سے جگر کو شدید نقصان نہ پہنچ چکا ہو، وائرس سے متاثرہ افراد برسوں تک اس کو ساتھ لے کر چلتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں جگر کی بیماری اور اگلی اسٹیج کے کینسر کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بروقت کارروائی نہ کرنے کی صورت میں پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے جس سے جگر کے کینسر کی تباہ کن وبا پھیلنے کا خطرہ ہوسکتاہے، ان گنت اموات، جگر کی بیماری، اور معیشت پر بڑے بوجھ کی صورت میں ہیپاٹائیٹس کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہاکہ ہمیں اپنی قوم کے صحت مند اور خوشحال مستقبل کیلئے آج ہی اقدامات لینا ہوں گے، ہیپاٹائٹس کے عالمی دن پرہم ہیپاٹائٹس کی روک تھام، کنٹرول اور خاتمے کو قومی ترجیح بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔صدرنے کہاکہ ہم ملک بھر میں احتیاطی تدابیر پر توجہ دیتے ہوئے سکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولیات کو بڑھا رہے ہیں، ہمیں ہیپاٹائیٹس کا خطرہ بڑھانے والے عوامل کو فوری طور پر کم کرنا ہوگا اور لوگوں میں ہیپاٹائٹس سے بچاؤ، سکریننگ اور علاج کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں